The story of the Arabian Peninsula before Islam
اسلام سے پھلے عربون مین کچھ جھالتین
پارٹ نمبر 1
ایسی ڈوریون کو جنہین کمانون کی زرہ بنانے کے کام مین لایا جاتا تھا
لوگ اونٹوں اور گھوڑوں کی گردنوں نیز سروں پر لٹکادیا کرتے تھے ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ایسون ٹوٹکون سے ان کے جانور بھوت پریت کے پرچھاؤ سے بچے رہتے ہین اور انہین کسی کی بری نظر نہین لگتی اسی طرح جب دشمن حملہ کرنے کے بعد لوٹ مار کرتا ہے تو ایسے ٹوٹکون کی وجھ سے ان جانورون پر ذرا بھی آنچ نہین آتی
⺩☺👐☺👺
نمبر 2
بارش لانے کے لئے کیا کرتے تھے
خشک سالی کے زمانے میں بارش لانے کی غرض سے جزیرہ نما عرب کے بوڑھے اور کاہن لوگ
سلع درخت جس کا پھل مزے میں کڑوا ہوتا ہے اور عشر نامی پیڑ جس کی لکڑی جلد جل جاتی ہے
گایوں کی دموں اور پیروں میں باندھ دیتے اور انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں تک ہانک کر لے جاتے
اس کے بعد وہ ان لکڑیوں میں آگ لگا دیتے آگ کے شعلوں کی تاب نہ لاکر ان کی گائی ادھر ادھر بھاگنے لگتین
اور سر مار مار کر ڈنکارنا شروع کر دیتیں ان کے خیال میں ان گائیوں کے ڈنکارنے اور سر مارنے سے پانی برسنے لگے گا ان کا یہ بھی گمان تھا کہ جب ورشا کی دیوی یاجل دیوتا ان گائیوں کو تڑپتا ہوا دیکھیں گے تو ان کی پاکیزگی اور پوترتا کو دھیان میں رکھ کر جلد ہی بادلوں کو برسنے کیلئے بھیج دیں گے👀👀👀👀👀👀👀👀👀
نمبر 3
مردون کو قبرون پر اونٹ کی سواری
وہ مردوں کی قبر کے پاس اونٹ قربان کرتے اور اسے ایک گھڑے میں ڈال دیتے ہیں ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کا یہ اقدام اس بات کا باعث ہوگا کہ صاحب قبر عزت و احترام کے ساتھ اونٹ پر سوار میدان حشر میں نمایاں ہوگا

Comments
Post a Comment